ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / شہریت قانون کی مخالفت میں بھٹکل میں 6 فروری کو ہوگا خواتین کا زبردست احتجاجی جلسہ؛ تنظیم نے خواتین سے کی کثیر تعداد میں شرکت کی درخواست

شہریت قانون کی مخالفت میں بھٹکل میں 6 فروری کو ہوگا خواتین کا زبردست احتجاجی جلسہ؛ تنظیم نے خواتین سے کی کثیر تعداد میں شرکت کی درخواست

Tue, 04 Feb 2020 18:39:58    S.O. News Service

بھٹکل 4/فروری (ایس او نیوز) دہلی کے شاہین باغ ، لکھنو کے شاہی گھنٹہ گھر سمیت ملک کے مختلف شہروں میں جس طرح  شہریت قانون کی مخالفت میں  خواتین بڑھ چڑھ کرسامنے آرہی ہیں اور  احتجاج اور دھرنے  دے کر اپنی آواز بلندکر رہی ہیں، بھٹکل کی خواتین بھی اس  معاملے  میں پیچھے نہیں ہیں ۔  وی دی پیوپل آف انڈیا (We the people of India) کے بینر تلے بھٹکل کی خواتین نے  مورخہ 6/ فروری کو  انجمن ہائی اسکول گراونڈ میں ایک عظیم الشان احتجاجی جلسہ منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے لئے تیاریاں زور و شور سے جاری ہے۔

قومی سماجی ادارہ مجلس اصلاح و تنظیم بھٹکل کی زیر سرپرستی اس احتجاج میں بھٹکل سمیت اطراف کی خواتین سے درخواست کی جارہی ہے کہ وہ اس احتجاج میں شریک ہوکر شہریت قانون، این  آر سی اور این پی آر کی سخت مخالفت کریں  اور حکومت پر دباو بنائے کہ وہ ان قوانین کو واپس لینے پر مجبور ہوجائے۔

بتایا گیا ہے کہ مورخہ 6/فروری بروز جمعرات دوپہر ٹھیک دو بجے  انجمن اسلامیہ اینگلو اُردو ہائی اسکول میدان میں احتجاجی جلسہ شروع ہوگا جس میں صرف خواتین شرکت کرسکیں گی۔ پروگرام میں خطاب کرنے کے لئے  دیگر شہروں سے   معروف خاتون مقررین کو مدعو کیا جارہا ہے جو ان قوانین کے تعلق سے مکمل جانکاری فراہم کریں گی  اور خواتین میں بیداری پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ  اگلے لائحہ عمل کے تعلق سے خواتین کو مشوروں   نیز تجاویز سے آگاہ کریں گی۔

خیال رہے کہ ملک کے مختلف حصوں میں گذشتہ 45 دنوں سے  زیادہ تر   خواتین ہی زبردست پیمانے پر احتجاج کررہی ہیں اور شاہین باغ سے شروع ہونے والا احتجاج اب ملک کے کئی شہروں تک پھیل چکا ہے ۔ خواتین  اس جوش و جذبے کے ساتھ احتجاج کررہی ہیں کہ  حکومت کے قدم لڑکھڑاتے  ہوئے نظر آرہے ہیں ۔بھلے ہی وزیراعظم مودی اور وزیرداخلہ امت شاہ  اپنے بیانات کے  ذریعے یہ تاثر دینے کی کوشش کررہے ہوں کہ  وہ اپنے فیصلوں سے ایک قدم بھی پیچھے ہٹنے والے نہیں ہیں، مگر شاہین باغ سے شروع ہونے والے خواتین کے احتجاج نے ملک کے عوام کو   ان  کالے قوانین سے  ایسا  بیدار کردیا ہے کہ حکومت کی چولہیں ہلنے لگی ہیں۔ اب عام عوام بھی  محسوس کرنے لگے ہیں کہ  کس طرح سیاسی پارٹیاں اچھے دن کے وعدے کرکے  کبھی نوٹ بندی کے نام پر اور کبھی کالے قوانین کے نام پر بے وقوف بناتے ہوئے راستوں پر لارہی  ہیں ۔


Share: